چینی اشعار کے آئینے میں
Poet: Muhammad Shafiq Ahmed Khan By: Muhammad Shafiq Ahmed Khan, Kot Adduابھی فارغ ہوئے تھے آٹے سے کہ بحران آگیا چینی کا
یا رب تو کیوں نہیں الٹتا تختہ ایسی حکمرانی کا
بن چینی منا بھی منہ نہ لگائے ہے دودھ کو
ذرا اسکی عمر تو دیکھو ، اور ذائقہ زبان کا
کہا بیگم نے کہ چھوڑ کیوں نہیں دیتے پیچھا چینی کا
ہم نے کہا کہ چھوٹتی نہیں یہ کافر منہ کو لگی ہوئی
گھر میں ہمارے چینی کا اک دانہ بھی نہ تھا
گودام میں مگر انکے ہم نے چینی کے کئی ذخیرے دیکھے
کہہ گئی ہے ہلیری کلنٹن امداد نہیں لینی تو نہ لو
ہم نے کو نسا اس سے چینی لینی ہے ، چھڈ یار
اک ذرہ بھی چینی کا نہ ہاتھ آیا ہمارے
ہم نے کئی بار لمبی لائنوں میں لگ کر دیکھا
پہلے ، گندم، پھر آٹا، پھر بجلی، پھر گیس، اور اب چینی بند ہوئی
گھبرائیے نہیں ابھی ، اور آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
بنا چینی اپنے تو کٹ جا ئیں گے کسی طور یہ دن بھی
دعا ہے کہ تجھے تاعمر نہ ہو چینی یہ نصیب
کر لو قبول یہ چھٹانک چینی سمجھ کر تحفہ عید کا
کہ اس سے اچھا نہ تھا تحفہ کوئی اس بار عید کا
دیکھا ہلال عید تو مانگی یہی دعا
یا رب نہ ترسانا چینی کو اس بار عید پر
کونسی چیز کا اس عید پہ تجھے تحفہ بھیجوں
پیار بھیجوں کہ کلو چینی کا تھیلا بھیجوں
چینی کو چھوڑدے سکرین میں گم ہوجا
نہ رہے شوگر باقی، نہ بلڈ پریشر، نہ ہارٹ
یا الہی کیا ماجرا ہوا، چینی کا آنا کیوں بند ہوا
کیا شوگر ملیں بند ہوئیں، یا بھتہ جانا بند ہوا
اس چینی کی شارٹیج سے نہ گھبرا اے شفیق
یہ تو جاتی ہے تجھے بیماریوں سے بچانے کے لیے
ارے چین ایسا کہ ناراض کرے رب کو کیسی راحت
نگا ہ زن تیری راحت، بدن تیری محبت ہے
عجب پالے محبت تو عشق بس نام کی سنگت
عجب عورت تیری بول چاری دیکھی میں نے جگ بھر میں
وصال مرد اچھا نہ ، کر ے کیوں گفتگو الفت
وصال مرد زن گر ہے محبت تو سنو یہ پھر
ملے نہ گر بدن تو رکھے کیوں الفت کی جا نفرت
ہے قال تم فراق تم سے جائے جاں میری ہائے
پریشاں گر ہو محبوب دور نہ کرتے اس کی تم زحمت
محبت خاکؔ طیبؔ یہ پیش خدمت جاں ہو چاہ کے
پیش محبو ب سب کچھ تم کرو گر نہ، نہیں الفت
اُن کی راہوں میں دُعاؤں کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِن کے بَچوں کو دِیا نام، سَہارا، مَنزِل،
اَپنی قِسمَت کی بھی ہَم نے تو گِرانی رَکھ دِی ۔
ہَم دِیّارِ غَیر میں تَنہا ہی لَڑتے رَہ گئے،
اور اُنہوں نے فَقط مَطلَب کی کَہانی رَکھ دِی ۔
گھر بَنایا تھا جِسے سَایۂ اِخلاص سَمجھ،
وَقت آیا تو اُسی گھر نے وِیرانی رَکھ دِی ۔
دَرد اِتنا ہے کہ اَب شِکوَہ بھی مُشکِل لَگتا،
زِندگی نے لَبِ اِظہار پہ پانی رَکھ دِی ۔
مَظہرؔ اِحسان کا بَدلہ نہ سَہی، یاد ہی رَکھ،
کُچھ تو رِشتوں نے وَفادارِی کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِنہیں اَپنا سَمجھا، وُہی یہ کَہہ کے ہَنس دِیے،
حاجی صَاب لُوسدِیاں رَہنا اِیں
بَس اِتنی مِہربانی رَکھ دِی
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا






