ڈبو دیں گے کبھی سورج ستارہ دیکھنے والے
Poet: Imtiaz Ali Gohar By: Imtiaz Ali Gohar, Glasgowڈبو دیں گے کبھی سورج ستارہ دیکھنے والے
کسی کا دل کہاں دیکھیں گے چہرہ دیکھنے والے
یہاں موجوں کی طغیانی سے ہم جیسے ہی لڑتے ہیں
وہ کیا جانیں سمندر کو کنارہ دیکھنے والے
بھری محفل ہو تو محتاط رہنا ٹھیک ہوتا ہے
سبھی باتیں سمجھتے ہیں اشارہ دیکھنے والے
پتہ جب سے چلا ہے میرے اندر ایک دنیا ہے
پریشاں ہیں مرے دل کا علاقہ دیکھنے والے
ذرا سی بات پر گوہر تعلق توڑنا کیسا
پلٹ کر آ بھی سکتے ہیں دوبارہ دیکھنے والے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






