ڈرد اب وہ نہیں جو اے دلِ نادان پہلے تھا
Poet: ریحان معتبرؔ By: محمد ریحان, Karachiدرد اب وہ نہیں جو اے دلِ نادان پہلے تھا
کُھلے سر پر ہمارے ایک سائبان پہلے تھا
تمھارے گمشدہ جو خواب ہیں سب ڈھونڈ لاؤں گا
مگر انعام وہ ہی ہے نا جواعلان پہلے تھا
سفیدی آگئی بالوں میں، نہ وہ ہے بات پہلے سی
نہ اب جذبات میں اُٹھتا ہے جو طوفان پہلے تھا
پڑھے لکھوں نے آکر گاؤں کا نقشہ بدل ڈالا
وہاں گھر بن گئے پکے، جہاں میدان پہلے تھا
طبیعت اب کہیں جاکر میری سنبھلی ہے مشکل سے
اے توبہ حال وہ جو عشق کے دوران پہلے تھا
محبت نام ہے اب جسم کی تسکین کا ہمدم
محبت پاک ہے اس پہ میرا ایمان پہلے تھا
نجانے کیا ہُوا کہ تیری تصویریں جلا ڈالیں
جلا اُس کو بھی ڈالا جو میرا دیوان پہلے تھا
یہ جو نظریں جھکائے ایک حُسنِ نازنیں گُزری
وہ میری جان پہلے تھی،میں اُسکی جان پہلے تھا
ہماراساتھ چھوڑا، اب مکافاتِ عمل دیکھو
جہاں پر آج تم ہو معتبرؔ ریحان پہلے تھا
زمانے کی ہَوا نے کردیا ہُشیار اب مجھ کو
وگرنہ معتبرؔ اک سیدھا سا انسان پہلے تھا
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






