ڈر لگتا ہے
Poet: Mohammad Ifzan Arshad By: Sohail Abbas, islamabadحسن سے عشق سے چاہت سے پیار سے ڈر لگتا ہے
مجھے تیرے ہونٹوں سے خمار سے ڈر لگتا ہے
دل پھینک ہوں، مجنوں ہوں، دیوانہ ہوں میں
صحرا کی دھوپ سے سنگ سے اغیار سے ڈر لگتا ہے
ڈھلتے آفتاب کو دیکھ کر نم ہوتی ہیں آنکھیں میری
حسیں تو ہے کیوں مجھے زوال سے ڈر لگتا ہے
باغوں میں تنہا نہ کیا کر سیر اے صبا
مجھے تو نیت بہار سے ڈر لگتا ہے
رنگوں سے رنگیں ہے تیرے چہرے کی صباحت
قوس و قزاح کو بھی تیرے نکھار سے ڈر لگتا ہے
رات جب سپنوں میں آتی ہے تو
طلوع سے بیداری سے ٹوٹنے کے خواب سے ڈر لگتا ہے
یہ خوف و ڈر تو مٹادوں میں لیکن
افزان کو عشق سے عشق کے اظہار سے ڈر لگتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






