ڈوب کر عشق میں لکھتی رہی وشمہ سوچیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیاعشق کے اس طرح اسباب نہ پوچھو مجھ سے
کس لئے اجڑے مرے خواب نہ پوچھو مجھ سے
دل کو ہارا ہے کہاں میں نے ستمگر لوگو
داستاں عشق کے یہ باب نہ پوچھو مجھ سے
ایک انسان ہوں دل میرا بھی دکھتا ہے بہت
آنکھ سے بہتا ہے کیوں آب نہ پوچھو مجھ سے
داستاں عشق بیاں کر دی غزل میں لیکن
حالت کرب کی وہ تاب نہ پوچھو مجھ سے
آج بھی عکس ہے اس دل کے نہاں خانے میں
کون ہے کیسا ہے مہتاب نہ پوچھو مجھ سے
ڈوب کر عشق میں لکھتی رہی وشمہ سوچیں
اس کے پوشیدہ وہ گرداب نہ پوچھو مجھ سے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






