کئی بدنامیاں ہوتیں کئی الزام سر جاتے
Poet: Yaseen Shahi By: Yaseen Shahi, Islamabadکئی بدنامیاں ہوتیں کئی الزام سر جاتے
مگر اے کاش ہم دونوں ہمی دونوں پہ مر جاتے
اگر تم خواب ہوتے تو تمھیں آنکھوں میں رکھ لیتے
نہ گویا نیند سے پھر جاگتے حتیٰ کے مر جاتے
اگر ہم روشنی ہوتے تو پھر احساس کی لو سے
زمیں کو چھوڑ دیتے مل کے دونوں چاند پر جاتے
اگر تم پھول ہوتے تو تمہاری خوشبو میں رہتے
سمندر کی طرح ہوتے تو ہم تم میں اتر جاتے
ہمارے خال و خد کیسے ہیں یہ اب تک نہیں دیکھا
اگر تم آئنہ ہوتے تو ہم کتنے سنور جاتے
تمھارے حسن پہ پہرہ ہمارے عشق کا ہوتا
جواں رکھتے سدا تم کو اگر لمحے ٹھہر جاتے
اگر سورج ہی ہوتے تو پھر اپنی دھوپ کی صورت
وجود یار کی دھرتی پہ شاہی ہم بکھر جاتے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






