کئ دنوں سے غزل کوئ بھی سنائ نہیں
Poet: dr.zahid sheikh By: dr.zahid sheikh, lahore pakistanکئ دنوں سے غزل کوئ بھی سنائ نہیں
اے دوست! مجھ کوتری یاد بھی تو آئ نہیں
ہے مختصر سا مراسم کا سلسلہ اپنا
ہے فون پر ہی فقط ویسے آشنائ نہیں
یہاں تو لوگ بچھڑتے ہیں عمر بھر کے لیے
اگر نہ بات ہو کچھ روز تو جدائ نہیں
بنا لوں کیسے بھلا اپنا ہمسفر تم کو ؟
تمھارے ساتھ تو اک شام تک منائ نہیں
یقین کرنے کو دل چاہتا تو ہے میرا
کہا جو تم نے تمھاری ہوں میں پرائ نہیں
یہ دوستی ہے محبت اسے نہیں کہتا
کہ میری نیند تو تم نے کبھی چرائ نہیں
مرے خیا لوں میں تم مونا لیزا جیسی ہو
نہ جانے کیا ہو جھلک تو کبھی دکھائ نہیں
یہ اچھے اچھے سے شعروں کے بھیجنا میسج
ہوں دونوں دوست بھی اچھے تو پھر برائ نہیں
میں آج کل بڑا مصروف ہوں کتابوں میں
سمیسٹروں سے تو ملتی کبھی رہائ نہیں
اب پیپروں کے ہی بعد ہوں گی تم سے سب باتیں
وہ ایک بات بھی جو آج تک بتائ نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






