کاجل
Poet: By: Sohial Iqbal, Chakwalکاش میں تیری حسین آنکھ کا کاجل ہوتا
تو مجھے آنکھ کے گلشن میں اتارا کرتی
میں تیری پلکوں کے سائے میں پڑاؤ ڈالے
تیرے رخسار کی سرخی میں اضافہ کرتا
جب تیری آنکھ سے اشکوں کے ترانے بہتے
میں تیری گال پہ ساون کا حسین بادل ہوتا
مجھ کو بے چین سے رکھتا تیری قربت کا مزہ
میں تیری آنکھ کے گلشن میں مہکتا رہتا
جب تیرے ہاتھ کی نرمی کی ضرورت پڑتی
میں تیری آنکھ میں ہلکی سے شرارت کرتا
اور کچھ نہیں بس تیرے حسن کا حاصل ہوتا
کاش میں تیری حسین آنکھ کا کاجل ہوتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






