کاش ایسا بھی ہؤا کرے
Poet: Rana Tabassum Pasha(Daur) By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Wylieکبھی تو ایسا ہؤا کرے ، کوئی میرا ہو خدا کرے
میرے عشق میں جیا کرے میرے نام پہ مرا کرے
درد ِ دل کی دوا کرے چاک ِ جگر کو سیا کرے
میری چاہ میں ٹوٹا کرے مجھے ٹوٹ کر چاہا کرے
خود سے نہ جدا کرے مجھے خدا سے مانگا کرے
مجھے پانے کو سوچتا رہے کیا کرے کیا نا کرے
فقط میرے نام کی تسبیح وہ صبح شام پڑھا کرے
کبھی تو اپنا حال ِ دل خون ِ دل سے لکھا کرے
مجھے اپنا بنا ہی ڈالے تنہا نہ اب رہا کرے
کوئی پوچھے دنیا ہے کیا؟ اور وہ رعنا رعنا کرے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






