کاش ایسا ہو
Poet: Oshlayk By: Oshlayk, Bahwalpurکاش ایسا کہ شغل لگ جائے
چلیں اس بہانے وہ ہنسیں گے تو سہی
کاش ایسا ہو کہ مرض لگ جائے
چلیں اس بہانے ہم رخصت تو ہوں گے
کاش ایسا ہو کہ ہم رخصت ہو جائیں
چلیں اس بہانے وہ درود تو پڑھیں گے
کاش ایسا ہو کہ ہم بیمار ہو جائیں
چلیں اس بہانے وہ دعا تو کریں گے
کاش ایسا ہو کہ ہم گرنے لگیں
چلیں اس بہانے وہ سنبھالیں گے تو سہی
کاش ایسا ہو کہ ہم سنبھل جائیں
چلیں اس بہانے وہ ہمیں گرائیں گے تو سہی
کاش ایسا ہو ک کاش سب ہو جائے
چلیں اس بہانے ہم کاش تو نہ کہیں گے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






