کاش دلہن کی طرح ہم کو سجانے آتے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیاہم جو روٹھے تھے کبھی ہم کو منانے آتے
کاش دلہن کی طرح ہم کو سجانے آتے
شعلے نفرت کے محبت سے بجھا نے آتے
دل میں ہم پیار کا گر دیپ جلا نے آتے
اس محبت میں یہ کچھ اور نہ ہوتا لیکن
دل کے مندر میں وہ ملنے کے بہانے آتے
ایسی بے نام وفاؤں سے کنارہ کرتے
غمِ دنیا میں جو اپنے بھی فسانے آتے
ایسی قسمت پہ یہاں رقص بہاراں ہوتا
"چاند سے لوگ مرا چاند سجانے آتے "
ہم بھی دل کھول کے دے دیتے محبت اپنی
وہ بھی تنہائی میں ملنے کے بہانے آتے
زندگی شہر خموشاں نہ یہ ہوتی وشمہ
وہ اگر میری محبت کے زمانے آتے
وشمہ خان وشمہ ، ملائیشیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






