کاش کوئی تو ہوتا
Poet: maria ghouri By: maria ghouri, haroonabadکاش کوئی تو ہوتا
جو مرے دل پہ ہاتھ
دھر کے کہتا
اس دل کے سب درد
سب غم سب غم زدہ
فسانے
مرے صرف مرے ہیں
کاش کوئی تو ہوتا
جو مری پلکوں سے
اپنی پلکیں ملا کے
کہتا
اس پلکوں کی نمی
مری صرف مری ہے
کاش کوئی تو ہوتا
جو مرے ہونٹوں کے
شکوے اپنے لبوں پہ سجا کے
کہتا
اس لبوں کی سب شکایتیں
مری صرف مری
ہیں
اے کاش کوئی تو
ہوتا
جو مرے گرد تنہائیوں
کا سخت غلاف کاٹ کے
کہتا
"ماریہ" تیرے ان انمول
لمحوں کی سوغاتیں
مری صرف مری ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







