کاش ۔ ۔ ۔ ۔ ۔اظہار محبت کر لیتے
Poet: IMTIAZ SHARIF IMTIAZ By: RAAZ BHANEWALI, SIALKOTگلستان دل میں خزاں آئی ہے بہار سے پہلے
ہم کو نفرت ملی ہے پیار سے پہلے
وقت رخصت قریب آیا تو ہوا احساس
کاش اظہار محبت کر لیتے یار سے پہلے
گردن نہ کٹے گی تو رنج ہو گا تمہیں
پیارے خنجر تیز کر لو وار سے پہلے
نہ یہ سوچیں تھیں نہ ہجر یار کے غم
کتنے پر سکوں تھے ہم پیار سے پہلے
میں ہوں اگر آوارہ تو وجہ ہے حسن تمہارا
میں ایسا تو نہیں تھا تمہارے دیدار سے پہلے
امتیاز تیری اس سے نبھے گی بھی یا کہ نہیں
تو نے سوچ تو لیا ہوتا پیار سے پہلے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






