کاش
Poet: Ahsen Zamir Aakash By: Zamir, Terbela Dam Swabiکاش میں اڑتا بادل ہوتا
دور فلک پہ تنہا سا
آوارہ سا اڑتا رہتا
صحرا، دشت اور دریا پر
گرجتا اور برستا رہتا
رات میں چاند کو اوٹ میں لاکر
دنیا والوں سے چھپا کر
چپکے چپکے باتیں کرتا
جیسے کہ کوئی پاگل ہوتا
کاش میں اڑتا بادل ہوتا
کاش میں کوئی پرندہ ہوتا
شام سویرےاڑتا رہتا
اڑنے سے جب تھک جاتا
خوب آرام سے سو جاتا
تنکے چن چن کر میں لاتا
اپنا آشیاں بناتا
اس کی حفاظت کرتا رہتا
جب تلک میں زندہ ہوتا
کاش میں کوئی پرندہ ہوتا
کاش میں کوئی پتا ہوتا
کسی بڑے شجر کا ہوتا
باد بہاری جب بھی آتی
جھومتا، گاتا لہراتا میں
جلتی دھوپ میں کوئی مسافر
جب بھی میری اوٹ میں آتا
خود تو جلتا دھوپ میں لیکن
اس کو سایہ دیتا میں
رت خزاں کی جب بھی آتی
نیچے زمیں پر گر جاتا میں
پاؤں کے نیچے کچلا جاتا
کوئی نہ اتا پتا ہوتا
کاش میں کوئی پتا ہوتا
کاش میں کوئی تتلی ہوتا
پھول سے پھول پہ اڑتا رہتا
دوڑتے بچے میرے پیچھے
میں آگے وہ پیچھے پیچھے
آخر کار پکڑ لیتے وہ
ہاتھوں میں جکڑ لیتے وہ
چھڑ کے رنگ ان کے ہاتھوں پہ
یکدم سے میں بھاگ نکلتا
پھر سے میرے پیچھے آتے
لیکن ان کے ہاتھ نہ آتا
پھولوں میں، میں گم ہو جاتا
جیسے شراراہ بجلی ہوتا
کاش میں کوئی تتلی ہوتا
کاش میں ننھا تارا ہوتا
اندھیری رات میں دور افق پر
جگمگ جگمگ کرتا رہتا
جب بھی کوئی گمنام مسافر
منزل سے اپنی بھٹکتا
سیدھی راہ اس کو دکھا کر
رہبر میں اس کا بن جاتا
ساری دنیا سو جاتی جب
میں اس سے باتیں کرتا رہتا
کچھ اپنی کہتا، اسکی سنتا
ساری رات میں یوں بتاتا
رات گزرتی صبح آتی
دور افق میں گم ہو جاتا
سارے موسم میرے ہوتے
گرمی ہو کہ جاڑا ہوتا
کاش میں ننھا تارا ہوتا
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کسی سے خود کو مگر کم نہیں بنائیں گے
ہمارے عہد میں ہر سو محبتیں ہوں گی
خزاں کا ہم کوئی موسم نہیں بنائیں گے
ہم ایک نقشہ بنائیں گے سارے ملکوں کا
کسی بھی ملک کا پرچم نہیں بنائیں گے
ہم اپنے علم سے مرہم بنائیں گے لیکن
ہم اپنے علم سے ایٹم نہیں بنائیں گے
ہماری سانس کو عادت نہ ہونے لگ جائے
کبھی بھی ہم کوئی ہمدم نہیں بنائیں گے
کبھی نہ راستہ روکیں گے جانے والوں کا
کہیں پہ چشمۂِ زم زم نہیں بنائیں گے
کسی سے دور بھی رہ کر خوشی سے جی لیں گے
کسی کی زیست جہنم نہیں بنائیں گے
جو دل کی صداؤں کی گہرائی ہے، وہی ہے۔
جو ہر گام پر ہے چراغِ نظر
مسافت میں رہتی جو بینائی ہے، وہی ہے۔
نہ پوچھو کہ کیسے وہ دل میں بسا ہے
کہ جذبوں کی ہر ایک رسوائی ہے، وہی ہے۔
کبھی ایک آہٹ، کبھی ایک خوشبو
یہ دنیا جو دل میں بس آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو خیالوں میں اکثر سنواروں
جو خوابوں میں چپکے سے آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو دعاؤں میں اکثر پکاروں
مرے لب پہ ہر دم جو آئی ہے، وہی ہے۔
نہ چاہا کسی اور کو اس طرح سے
محبت کی میری جو سچائی ہے، وہی ہے۔
کہا جس کو میں نے کبھی زندگی
وہی میری سب کچھ، خدائی ہے، وہی ہے۔
وہی روشنی ہے، وہی خواب سا ہے
مری ہر نگاہوں کی بینائی ہے، وہی ہے۔
سنو لوگو! جس نے مجھے جان بخشا
مرے دل میں مظہر جو چھائی ہے، وہی ہے۔






