کاش
Poet: محمد یوسف راہی By: محمد یوسف راهی, Karachiکاش میں کوئی پھول ہوتا تو چہکتا مہکتا باغوں میں
کاش میں کوئی خوشبو ہوتا تو بکھرجاتا فضاؤں میں
جب میں انسان ہوکر بھی کسی کے کام نہ آسکا تو پہر
کاش میں کوئی پتہر ہوتا تو کام آجاتا دیواروں میں
کوئی اے سی کے کمرے میں رہے تو کوئی دھوپ میں
کاش میں کوئی درخت ہوتاتو سایہ بانٹتارہگیروں میں
کئی لوگ ترستے ہیں خوشی کے چند لمحوں کو یاروں
کاش میں کوئی وہ لمحہ ہوتا تو بٹ جاتا غمزدوں میں
میں تو انسان ہوں چلتا ہوں پہرتا ہوں زمین پر یاروں
کاش میں کوئی پرندہ ہوتا تو اڑتا پہرتا آسمانوں میں
بیمار ہیں کئی لوگ اور کرتی نہیں اثر دوا بھی کوئی
کاش میں کوئی دوا ہوتا تو شفا بانٹتا بیماروں میں
نہ کسی کی چہت ہوں میں نہ آرزو کسی دل کی
کاش میں کوئی ضرورت ہوتا تو مانگا جاتا دعاؤں میں
نہ دیکھے کوئی میری طرف نہ سنے کوئی میری بات
کاش میں کوئی خبر ہوتا تو پڑھا جاتا اخباروں میں
میں کچھ بھی ہوتا مگر انسان نہ ہوتا اس دور کا رہی
کاش میں کوئی جوتا ہوتا تو پھر پہنا جاتا پاؤں میں
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






