کانٹوں سے پھولوں کی بات نہ کرنا
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaکانٹوں سے پھولوں
کی بات نہ کرنا
جو دن گزر گیا
ُاسے تم یاد نہ کرنا
بہاریں آتی ہیں بہاریں جاتی ہیں
پر تم خزایوں میں
خود کو ُاداس نہ کرنا
میں تمہارے پاس نہیں پر
تمہارے ساتھ رہتا ہوں
بس تم اپنے دل کی بات کو
کبھی بھی نظر انداز نہ کرنا
کوئی ہوا کا جھوکا گر چھو کر
گزرے تو سمجھ لینا کہ
کوئی تمہیں بہت یاد کرتا ہیں
مگر تم اس ڈر سے خود کو کھبی
کمروں میں قید نہ کرتا
مجھے دیکھنا ہو تو چاند میں
دیکھ لینا مگر تم کبھی
بےبس ہو کر خود کو
اندھری رات کا مہمان نہ کرنا
یہ وقت بدل جانا ہیں بہت جلد
بس تم اپنے ہاتھوں کو
دعاوں سے دور نہ کرنا
میں تمہارا تھا
تمہارا ہوں
اور ہمشیہ تمہارا ہی راہوں گا
بس تم ان تنہایوں سے
خود کو برباد نہ کرنا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






