کبھی اس سے ماتھا لگا کر تو دیکھو
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: توقیر اعجاز دیپک, جھنگکبھی اس سے ماتھا لگا کر تو دیکھو
فلک کوئی سر پہ اٹھا کر تو دیکھو
پلک بھی جو جھپکوں تو اندھا ہو جاؤں
حِجابوں سے باہر تم آ کر تو دیکھو
مرا عشق بھی طور سے کم نہیں ہے
مجھے اِک تجلّی دِکھا کر تو دیکھو
فلک چِیر کر جو پہنچ جاۓ اس تک
صدا کوئی ایسی لگا کر تو دیکھو
اندھیروں کا بھی کچھ الگ ہی سکوں ہے
کبھی دِیپ سارے بجھا کر تو دیکھو
بہت کر لیا تم نے کعبے کو سیدھا
ذرا آج سجدے میں جا کر تو دیکھو
میں زم زم سمجھ کر نہ پی لوں تو کہنا
ہَلاہل سہی ، تم پلا کر تو دیکھو
تری دھڑکنیں ساتھ دیتی ہیں کتنا ؟
چلو آج اس کو بھلا کر تو دیکھو
تو زندہ بھی ہے یا کہیں مر گیا ہے؟
ذرا خود کو دیپک ہِلا کر تو دیکھو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






