کبھی اس طرح جو ہو جائے
Poet: سلیم عشرت ہاشمی By: سلیم عشرت ہاشمی, Karachiترے عارض کے گلابوں کا
رنگ جو پھیکا پڑ جائے
ان گہری جھیل سی آنکھوں میں
جو سندر سے ہیں خواب سجے
وہ خواب ادھورے رہ جائیں
یہ جو بدلی گھٹا سی اٹھتی ہے
تری زُلف سے جا یہ ملتی ہے
ان شب سے گہری راتوں کی
جب ماند سیاہی پڑ جائے
تری کھنکھتی ہنسی کی چھن چھن سی
تال جو مدہم ہوجائے
گُھن سا روگ کوئ روح کو لگ جائے
دل گھائل اور من پاگل جب ہو جائے
کچھ اپنا آپ بگڑ جائے
اور ہر شے مخالف ہو جائے
آنکھیں موندے دستک دل پر دے لینا
ہاں یاد یہ اُس وقت تم کرلینا
کس رہ پر کس کو چھوڑا تھا
کس بات پرتعلق توڑا تھا
یہ جو دل والوں کی بستی ہے
یہ بستی انوکھی بستی ہے
ہر در کی نئی کہانی ہے
ہر دہلیز پر ہیں خواب سجے
ہر بام پہ درد کا ڈیرہ ہے
بس غم کی سیاہی ساکت ہے
اُمید کا نہ کوئ پھیرا ہے
ہیں اس بستی کے لوگ جُدا
دُنیا سے الگ بس آپ خفا
اس بستی کےاک گوشے میں
کچھ درد کے مہکتے کنُجوں پر
اک نام تمھارا لکھ رکھا ہے
تُم آ کر بس یہ کرجانا
ساتھ نام ہمارا لکھ آنا
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






