کبھی اقرار کرتا ہے ، کبھی انکار کرتا ہے
Poet: Khalid Roomi By: KHALID ROOMI, Rawalpindi کبھی اقرار کرتا ہے ، کبھی انکار کرتا ہے
ہمارا جینا دنیا میں وہ یوں دشوار کرتا ہے
بپا وہ فتنہ ء محشر جمال یار کرتا ہے
کوئی مجنوں پھر اب نالہ پس دیوار کرتا ہے
عیاں دنیا میں اپنی خوبیء کردار کرتا ہے
محبت کا کسی سے جو کوئی اظہار کرتا ہے
صعوبت کے وہ دریا کو خوشی سے پار کرتا ہے
اسے راحت نہیں ہوتی جو آنکھیں چار کرتا ہے
علاج اس کا مسیحا سے کسی صورت نہیں ممکن
جسے بیمار تیرا دیدہ ء ہشیار کرتا ہے
سلوک ایسا کیا تم نے ہمارے ساتھ الفت میں
حیا والا وہ کرتا ہے نہ با کردار کرتا ہے
وفا تو مانگتی ہے جانثاری کربلا کی سی
سر منبر تو اے واعظ ! عبث گفتار کرتا ہے
تری شوخی میں پنہاں ہے یقینا پھر نیا فتنہ
کوئی تو بات ہے کیوں اس قدر اصرار کرتا ہے
جسے فرہاد کی اور قیس کی سیرت ہو ازبر، وہ
محبت کے چمن کو خون سے گلزار کرتا ہے
شب غم آہ اٹھتی ہے عجب ہر اک بن مو سے
نکلتا ہے جو دم فریاد کی تکرار کرتا ہے
بھروسے کے نہیں لائق کبھی وہ شخص دنیا میں
کمینہ ہے وہ دشمن جو کہ چھپ کے وار کرتا ہے
خدا کی رحمتیں رومی ! مقدر اس کا بنتی ہیں
ندامت سے اگر گریہ کو ئی بدکار کرتا ہے
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






