کبھی تم مول لینے ہم کوں ہنس ہنس بھاؤ کرتے ہو
Poet: سراج اورنگ آبادی By: نعمان علی, Islamabadکبھی تم مول لینے ہم کوں ہنس ہنس بھاؤ کرتے ہو
کبھی تیر نگاہ تند کا برساؤ کرتے ہو
کبھی تم سرد کرتے ہو دلوں کی آگ گرمی سیں
کبھی تم سرد مہری سیں جھٹک کر باؤ کرتے ہو
کبھی تم صاف کرتے ہو مرے دل کی کدورت کوں
کبھی تم بے سبب تیوری چڑھا کر تاؤ کرتے ہو
کبھی تم موم ہو جاتے ہو جب میں گرم ہوتا ہوں
کبھی میں سرد ہوتا ہوں تو تم بھڑکاؤ کرتے ہو
کبھی لا لا مجھے دیتے ہو اپنے ہات سیں پیالا
کبھی تم شیشۂ دل پر مرے پتھراؤ کرتے ہو
کبھی تم دھول اڑاتے ہو مری غصے سیں روکھے ہو
کبھی منہ پر حیا کا لا عرق چھڑکاؤ کرتے ہو
کبھی خوش ہو کے کرتے ہو سراجؔ اپنے کی جاں بخشی
کبھی اس کے بجھا دینے کوں کیا کیا داؤ کرتے ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






