کبھی تو تم دیکھوں گے ُاس حقیقت کے آئیے کو
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaُخدارا نا کریدہ کروں مجھے کہ یہاں
تمہیں غموں کے سوا کچھ نا ملے گا
مجھ میں قید ہیں لوگوں اندیکھے روپ کہ یہاں
تمہیں ویرانوں کے سوا کچھ نا ملے گا
تم دیکھو صرف میرے مہکتے لبوں کو مگر
میرے اندر تمہیں آنسوں کے سوا کچھ نا ملے گا
تم چاہیت کی بات کرتے ہو جو وفا کر کہ بھی تنہا رہے
ُاس شخص میں خدا کے سوا کچھ نا ملے گا
کبھی خود کو جاننے کی طلب ہو تو میرے دل میں ُاتر آنا
کہ مجھ میں تمہیں تمہاری یادوں کے سوا کچھ نا ملے گا
ہر کسی نے لگائے یوں تو بہت الزام مجھ پر مگر
جاناں میرے ہونٹوں پے خاموشیوں کے سوا کچھ نا ملے گا
کبھی تو تم دیکھوں گے ُاس حقیقت کے آئیے کو
کہ وہاں تمہیں تمہاری مورت کے سوا کچھ نا ملے گا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






