کبھی تو جو کرے دعا تو
Poet: T-Malik By: T-Malik, Lahoreکبھی تو جو کرے دعا تو
میرے دل کو کوئی سہارا ملے
میری کشتی آرزو ابھر پڑے
پھر مجھے کوئی کنارا ملے
کبھی بھولے سے بھی ان زاہدوں کی
اک نگاہ مجھہ پر پڑے تو
پوچھے خدا سے بے اختیار
برسوں بیتے بیچ منجدھار
یہ کونسا ہے بندہ خدا
جو ہم زاہدوں سے بڑھ کر لگا
تو کہہ دے خدا بھی رسان سے
کوئی حساب نہیں اس کی جان سے
اسے لگتی ہے ہر موڑ پر اک دعا
وہ لفظ دعا ہیں سب دل سے کہے
پھر کیسے اس پر کوئی بار پڑے
جا پہلے اس کے اہل دعا کو ہٹا
پھر آ کر اپنی بپتی سنا
سن لے قول فرمانرواں
نہیں رہ سکتا کبھی کوئی غمزدہ
جو کرتی ہو پیچھا اس کا
فقط ایک دعا
بس ایک دعا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






