کبھی جو جون نے ہم کو کلام بھیجا ہے
Poet: Aamir Veesar By: Aamir Ali Veesar, Khairpurکبھی جو جون نے ہم کو کلام بھیجا ہے
تو جواب میں میں نے سلام بھیجا ہے
کبھی اس نے میری شاعری سننے کی زد لگائی تھی
اب اسی نے چپ رہنے کا پیام بھیجا ہے
کبھی صورتوں کو پہچان نے کا ہنر آتا تھا
اب خود ہی کو ڈھونڈنے کا اعلان بھیجا ہے
کوئی کچھ بھی کہے ہم کو یہ گوارہ ہے
پر تیرے بارے نا کہنے کا اعلان بھیجا ہے
کبھی کسی کی آنکھوں میں رہنے کا شوق تھا مجھ کو
ابھی خود کو مارنے کا انعام بھیجا ہے
کبھی اس کی نظر کو بھی ہم ترستے تھے
اب وہ بولے بھی تو خدا حافظ کا جواب بھیجا ہے
اس سے مجھ کو نفرت تو نہیں لیکن ہاں
اس سے محبت کا ہی میں نے انکار بھیجا ہے
کبھی "ویسر" کا دیوانہ میں ہوا کرتا تھا
ابھی عامر کو بھی میں نے جواب بھیجا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






