کبھی دھوپ میں کبھی چھاؤں میں
Poet: Muhammad Nawaz By: Muhammad Nawaz, sangla hillکبھی سہمی سہمی فضاؤں میں
کبھی بہکی بہکی رداؤں میں
تیری راہ کو رہا ڈھونڈتا
کبھی دھوپ میں کبھی چھاؤں میں
وہ خیال تیرے وصال کا
وہ خیال گزری بہار کا
سدا پھول بن کے کھلا رہا
میری زندگی کی خزاؤں میں
میری بے وفائی نہیں ہے یہ
میں تو گردشوں کا غلام ہوں
میری بے بسی کی ہیں سسکیاں
جو تو سن رہا ہے ہواؤں میں
ہے تو آفتاب میں پھول ہوں
سورج مکھی کا کھلا ہوا
میری زندگی کا وجود ہے
تیری الفتوں کی شعاؤں میں
تیری مسکراہٹیں شوخیاں
تیرا روٹھنا تیرا ماننا
دنیا کی ساری رنگینیاں
ہیں تیری معصوم اداؤں میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






