کبھی زخمی کروں پاؤں کبھی سر پھوڑ کر دیکھوں
Poet: rafiq sandeelvi By: rashid sandeelvi, islamabadکبھی زخمی کروں پاؤں کبھی سر پھوڑ کر دیکھوں
میں اپنا رخ کسی جنگل کی جانب موڑ کر دیکھوں
سمادھی ہی لگا لوں اب کہیں ویران قبروں پر
یہ دنیا ترک کر دوں اور سب کچھ چھوڑ کر دیکھوں
مجھے گھیرے میں لے رکھا ہے اشیاومظاہر نے
کبھی موقع ملے تو اس کڑے کو توڑ کر دیکھوں
اڑا دوں سبز پتوں میں چھپی خواہش کی سب چڑیاں
کبھی دل کے شجر کو زور سے جھنجھوڑ کر دیکھوں
عدم تکمیل کے دکھ سے بچا لوں اپنی سوچوں کو
جہاں سے سلسلہ ٹوٹے وہیں سے جوڑ کر دیکھوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






