کبھی سوچا ہی نہیں
Poet: Arib Hashmi By: Arib Hashmi, Kharianعشق قاتل یا مسیحا کبھی سوچا ہی نہیں
میں بھی ہوں تیرا شناسا کبھی سوچا ہی نہیں
یہی سوچا کہ مجھے بھول نہ جائے وہ بھی
وہ مجھے یاد کرے گا کبھی سوچا ہی نہیں
اس کی آنکھوں پہ کتابیں تو بہت لکھتے ہیں
اس کا یہ حسن و سراپا کبھی سوچا ہی نہیں
تو بچھڑ کر بھی میرے وہم و گماں پر حاوی
میں نے کتنا تجھے سوچا کبھی سوچا ہی نہیں
بعد تیرے میں سمٹتا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیسے کیسے
کیسے کیسے ہوں میں بکھرا کبھی سوچا ہی نہیں
دوڑتا رہتا ہوں میں موت کی جانب لیکن
زندگی سے بھی ہوں بھاگا کبھی سوچا ہی نہیں
سر محفل بھی میں خاموش رہا ہوں آرب
حسن بن جائے تماشہ کبھی سوچا ہی نہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






