کبھی مومن !! کبھی منکر !!
Poet: Asad By: Asad, mpkیہ کیا بنا پھرتا ھے ارے انسان تو
کبھی مومن کبھی منکر کبھی شیطان تو
کیون اتنا گر گیا تو اپنے ضمیر سے؟
کہ چند رپیون کیخاطر بیچ دیتا ایمان تو
یہ سود و محصول کب تجھے حلال تھا؟
یعنی برائے نام کا رھ گیا بس مسلمان تو۔۔
آدم !!! بھی نکالا گیا تو دیکھ جنت سے
کس سبب کارن وجہہ ذرا پہچان تو
ابھی بھی وقت ھے دیکھ سمبھلنے کے لیے۔
پہلی فرصت مین بچا لے اپنا ایمان تو۔۔۔
کیا بھروسہ ھے کل پھر حیات کا
کر آخرت کے لئے خود کو قربان تو
تو ھے مسلمان سچا سپاھی دین کا
کچھ مقام حیثیت مرتبہ اپنا پہچان تو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






