کبھی میسر نظر کو اپنی تمھارا ثانی نہ کر سکوں گا
Poet: ناظم زرؔسنّر By: ناظم زرؔسنّر, Pakpattansharکبھی میسر نظر کو اپنی تمھارا ثانی نہ کر سکوں گا
گداز جذبات پر کبھی بھی میں مہربانی نہ کر سکوں گا
خیال عرشِ بریں کی رفعت کو چومتے ہیں تمھارے باعث
سرور خوں سے لے کر تَخَیُّل پھر آسمانی نہ کر سکوں گا
تمھارا گر ہاتھ ہاتھ میں ہو تو فتح کر لوں گا سارا عالم
تمھارے بن تو میں اپنے دل پر بھی حکمرانی نہ کر سکوں گا
تمھاری آنکھوں میں میری دنیا کو آج بھی حکمِ کن فکاں ہے
اگر رکا ارتقاء، خیالوں کی ترجمانی نہ کر سکوں گا
حیات بخشی ہے میرے الفاظ کو تمھاری ہی جستجو نے
تمھارے بن لفظ مردہ ہوں گے تو خوش بیانی نہ کر سکوں گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






