کبھی پاس آؤ تو تمہیں حال سناؤ
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky) , Saudi Arabiaکبھی پاس آؤ تو تمہیں حال سناؤ
کیسے گزرے ماہ و سال بتاؤ
پتھر سا دل لیے میں پھرتی رہی
کیسے ٹوٹ گیا پتھر وہ بات بتاؤ
چادر اُوڑھ کر چہرہ تو چھپا لیا
آنکھوں سے کیسے ہوئی برسات بتاؤ
تمہارے لہجے میں وہ کس کا لہجہ بولتا رہا
تمہیں وہ لفظ یا ُاس شخص کا نام بتاؤ
قطار میں کتنے ہی لوگ آ رہے تھے
کیسے کاٹا اک شخص کے لیے وہ انتظار بتاؤ
رات کے بارہ بھی بج گئے اب تو
میں ڈھونڈ رہی ہوں تمہیں سب کو کیسے بتاؤ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






