کبھی کوئی مری نیند مرے خواب لکھے
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwalaکبھی کوئی مری نیند مرے خواب لکھے
کوئی مرے حصے میں بھی مہتاب لکھے
وہ نا جان سکا دیکھ کے بھی مری حالت
ایسا شاعر ہو جو مرے حال پے کتاب لکھے
اب بھی دل روتا ہے اُسے یاد کر کے
کوئی آئے اور مرے دل کے جذبات لکھے
چلے گئے وہ چھوڑ کے شہر مرا
مر رہا ہے یار اُس کا کوئی اُسے ڈاک لکھے
نہ دفنانا مری لاش کو جب تک وہ آ نہ جائے
جب تک وہ نہ آ کے مرے خود حساب لکھے
وہ پچھتائے اپنی بے وفائی پے اس قدر
وہ اپنی زندگی کے لئے عذاب لکھے
عمر بھر سویا ہوں میں کانٹوں کے بستر پے نہال
مرنے کے بعد ہی کوئی مری قبر پے کومل گلاب لکھے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






