کبھی ہنستی ہیں یہ، تو کبھی اشکبار ہیں آنکھیں
Poet: Mubashir jameel By: Mubashir Jameel , Karorpakkaکبھی ہنستی ہیں یہ، تو کبھی اشکبار ہیں آنکھیں
کسی کے لوٹ آنے کا، بس انتظار ہیں آنکھیں
بھروسہ ٹوٹ جائے تو، چمک بھی کھو سی جاتی ہے
محبت میں کبھی رسوا، کبھی خوار ہیں آنکھیں
یہ اپنے دکھ چھپانے میں، بڑی ماہر ہیں دنیا سے
مگر اندر سے کتنا ہی، بے قرار ہیں آنکھیں
تھکن چہرے پہ آتی ہے، مگر یہ جاگتی رہتی ہیں
کسی کی یاد میں شاید، لاچار ہیں آنکھیں
جو اپنے دل میں حسرت ہو، وہ پڑھ لیتی ہے دنیا بھی
ہمارے حالِ دل کا اب، اشتہار ہیں آنکھیں
جو خوشخبریاں سناتا تھا سب کو بستی میں
مبشرؔ آج تری کیوں بے زار ہیں آنکھیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






