کب تک دل میں میں مندر سجائے رکھتا
Poet: Qaisar Dilawar Jadoon By: qaisar dilawar, Hassan Abdalکب تک دل میں میں مندر سجائے رکھتا
اور کتنا میں اُسے خدا بنائے رکھتا
موت لگنے لگی تھی پیاری زندگی سے مجھے
بوجھ کندھوں پہ میں کب تک اُٹھائے رکھتا
اس کی فطرت میں تھا جو وہ کرنا تھا اُسے
میں چاہے لاکھ اسے سینے سے لگائے رکھتا
بھر جاتا ضبط کا پیمانہ اآکر
میں کب تک اسے دوست بنائے رکھتا
اب کی عید پہ بھی ہیں وہی یادیں قیصر
کیوں نہ اس بار ہر بات بھلائے رکھتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






