کب سے منتظر ہیں کہ شراب آئے
Poet: Ahmad Faisal Ayaz By: Ahmad Faisal Ayaz, Hafizabadکب سے منتظر ہیں کہ شراب آئے
ساقی اتنی دیر سے مگر آپ آئے
آئے ہیں تو جلدی سے پیمانہ بھرئیے
اس سے پہلے کہ یاد عذاب آئے
لکھ تو آئے ہیں انہیں چند حروف شکائت
کون جانے کیا ان کا جواب آئے
اے گل اپنی رنگینی پہ نہ اترا
آئے کچھ دیر کو جو شباب آئے
حسن ساقی جزو لازم ہے مئے کشی کا
کیسے ممکن ہے درمیاں حجاب آئے
ہم بھی واقف ہیں ان کی کمزوری سے
کچھ تاخیر سے سہی مگر جناب آئے
گرا چکے ہو جو خود کو اپنی نظروں میں
ایاز کیا کرو گے روز حشر گر حساب آئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






