کتاب زیست کا عنوان بننے سے ڈرتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Poet: ayesh khan By: Ayesh Khan, karachiکتاب زیست کا عنوان بننے سے ڈرتی ہوں
میں ہوں اک انسان بکھر جانے سے ڈرتی ہوں
میں کیسے کہوں مجھے تجھ سے محبت ہے
کہ تجھ کو کھو دینے کے ڈر سے بھی ڈرتی ہوں
وہ مجھ کو کہیں بھلا نہ دیں جاناں اسی لیے
ان کے دل کا مہمان بننے ڈرتی ہوں
عائش لٹیروں کو راہبر بنا تو لوں مگر
میں قافلہ سر راہ لٹ جانے ڈرتی ہوں
کیوں کر گھروندہ بناوں اس شخص کے پہلو میں
برف کے شہر میں پگھل جانے ڈرتی ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






