کتنا الجھا سوال تھوڑی ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: washma khan, Kuala Lampurتیری یادوں کا جال تھوڑی ہے
کتنا الجھا سوال تھوڑی ہے
ایسی دم توڑتی فضاؤں میں
زندہ رہنا کمال تھوڑی ہے
زندگی کی حسین ساتھی ہے
ایک زندہ مثال تھوڑی ہے
میرے محبوب مجھ سے ملنے آ
یہ تو ملنے کا سال تھوڑی ہے
کوئی اس کو چرا نہیں سکتا
وہ محبت کا مال تھوڑی ہے
اب جو مجھ سے خفا یہ قسمت ہے
زندگی کی ہی چال تھوڑی ہے
کیا ضرورت ہے پیار کی وشمہ
جس میں دل ہی ملا ل تھوڑی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






