کتنا شریف شخص تھا جو دھوکے میں آگیا
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiکتنا شریف شخص تھا جو دھوکے میں آگیا
ہوئی ذرا سی بات بھروسے میں آگیا
شدت سے چاہا اس کو شقاوت نہیں رہی
عکسِ جمیل اس کا تو کوزے میں آگیا
ایسی چلی ہے چال رعونت سے دوستو
پاگل جو شخص تھا وہ شکنجے میں آگیا
مجھ کو جو دیکھتا تھا بڑے التفات سے
اس کے قریب آیا تو سکتے میں آگیا
مل سکتا نہ تھا سامنے وہ سب کے اس لیے
وہ شخص ملنے ہجر کے حجرے میں آ گیا
خوشحال زندگی کے نہ ادوار وہ رہے
حالات میرے دیکھ کے صدمے میں آ گیا
راتیں فراقِ ہجر میں ایسے ہی کٹ گئیں
اتنا بڑھا ہے درد کہ سینے میں آ گیا
کرتا تھا روز بات ہو جاتی تھی فون پر
تعریف جب زیادہ کی نخرے میں آگیا
آزاد ہو گیا تھا شکاری کی قید سے
پنچھی وہ خود بخود اسی پنجرے میں آگیا
شہزاد ہجر کی راتیں صدا دینے لگ گئیں
ممکن نہیں تھا ایسا کہ جھونکےمیں آ گیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






