کتنا ہے معتبر یہ حوالہ مرے لیے
Poet: yawar azeem By: misbaah mushtaq, rawalpindiکتنا ہے معتبر یہ حوالہ مرے لیے
سورج لٹا رہا ہے اجالا مرے لیے
محو ِ خرام ہوں میں سر ِ عرش ِ آرزو
دو گام پر ہے عالم ِ بالا مرے لیے
مجھ کو پکارتی ہے پہاڑوں کی سر زمیں
پلکیں بچھا رہا ہے ہمالہ مرے لیے
ہر بت میں دیکھتا ہوں ترا پرتو ِ جمال
مسجد سے کم نہیں ہے شوالہ مرے لیے
پوری نہ ہو گی چاند کو چھونے کی آرزو
دیوار سا ہے چاند کا ہالہ مرے لیے
ساحل کی ریت پر یہ لکیریں عجیب ہیں
دریا نہ لکھ رہا ہو مقالہ مرے لیے
یاور عظیم ترک ِ مراسم کے باوجود
بےتاب ہے وہ چاہنے والا مرے لیے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi








