کتنی خطائیں کر گئے اس جہاں میں
Poet: By: Khalid Pervez, Pasrur, Saukin Windکتنی خطائیں کر گئے اس جہاں میں جیتے جیتے
بھلا دیا خدا کو یہ جام پیتے پیتے
گوہ چرچے ہیں ان کے ہر بزم میں لیکن
کچھ دنوں کا ہے ان کا یہ قیام جیتے جیتے
خدا کے سامنے جب روبرو ہم ہوں گے
پھر بتاؤں گا جو کہہ گئے کلام جیتے جیتے
آج ہوں میں اک اجڑے ہوئے صحرا کی مانند
میری وفاؤں کو دیا یہ انعام جیتے جیتے
ناداں تھے دانستہ کی محبت ان سے خالد
جانا پا کے محبت کا انجام جیتے جیتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







