کرب کے دشت میں اک رات مکمل نہ ھوئی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, moscowکرب کے دشت میں اک رات مکمل نہ ھوئی
لفظ تو ختم ھوئے بات مکمل نہ ھوئی
پھر تری بزم میں ہم شوق سے آ جاتے مگر
کٹ گیا وقت ملاقات مکمل نہ ھوئی
دل کی گہرائی سے چاہا تھا کہ تو مل جائے
بن ترے میری کبھی ذات مکمل نہ ھوئی
جلتے ھونٹوں سے گلابوں کے بدن کو چوما
پھول زخمائے تو بارات مکمل نہ ھوئی
بہتے دریاوں کی سب موجیں سمندر میں گریں
آنکھ میں آئی تو برسات مکمل نہ ھوئی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






