کرتے ہیں محبت ہم تمہیں سے
Poet: assadullah By: Asadullah abbasi, ISlamabadکرتے ہیں محبت ہم تمہیں سے
تو پھر کسی اور سے دل لگانا کیا
چاہا تھا صرف تمہیں
تو پھر کسی اور کو منہ لگانا کیا
جب تم ہی ہمیں بھول گۓ ہو
تو پھر تیری یادوں کو دل سے لگانا کیا
جب تم ہی نے بیوافاۓ کی ہم سے
تو پھر وفا کا عہد نبھانا کیا
دیکھے تھے ہم نے تیرے خواب ہر پل
اب ان کی تعبیر کو جیتانا کیا
جب تم ہی ہمیں چھوڑ گۓ ہو
تو پھر کسی اور کو گلے لگانا کیا
جب تم ہی ہم سے روٹھ گۓ
تو پھر کسی اور کو منانا کیا
بہت دور نکل گۓ ہم محبت کی راہوں میں
اب وہاں سے واپس آنا ہی کیا
کتنے ہی دن یوں ہی گزریں گۓ تیرے انتظار میں
تو پھر اس دن رات کو گنانا کیا
جب میری خاموش محبت بھی تمہیں قائل نہ کرسکی
تو پھر لفظوں کے ذخیرے کو لٹانا کیا
جب تمہیں ہی ہم سے الفت نہی رہی
پھر تم سے ملنے کے بہانے بنانا کیا
ہو جائے علم تمہیں ہماری چاہت کا
تو پھر لفظوں کا خالی مہفوں کو پلٹانا کیا
تمہیں ہر حال میں لوٹنا ہو گا اسد
تو پھر اتنا انتظار کرانا کیا
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں






