کریں گے یاد تمھیں ،تم کو ہی پکاریں گے (دوگانا)
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanلڑکی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔
بہیں گے اشک یونہی زندگی گزاریں گے
کریں گے یاد تمھیں ،تم کو ہی پکاریں گے
کوئی بھی شہر ہو دنیا میبں چاہے کوئی نگر
جہاں بھی جائیں گے چاہیں گے تم کو شام و سحر
تمھارا پیار ستائے گا عمر بھر ہمدم
نہ ختم ہو گا تمھاری وفا کا دل پہ اثر
یہ بوجھ دل سے بھلا کس طرح اتاریں گے
کریں گے یاد تمھیں ، تم کو ہی پکاریں گے
بہیں گے اشک یونہی زندگی گزاریں گے
کریں گے یاد تمھیں ،تم کو ہی پکاریں گے
لڑکا
۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔
اداسیوں سے بھری زندگی گزاریں گے
تڑپ تڑپ کے تمھیں جان من پکاریں گے
ہوائیں بیتے فسانے ترے سنائیں گی
بہاریں تیری مہک ہر طرف لٹائیں گی
کرے گا چاند بھی ہر شب تمھاری ہی باتیں
فضائیں گیت تمھارے ہی گنگنائیں گی
ہنسیں گے اور نہ خود کو کبھی سنواریں گے
تڑپ تڑپ کے تمھیں جان من پکاریں گے
اداسیوں سے بھری زندگی گزاریں گے
تڑپ تڑپ کے تمھیں جان من پکاریں گے
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






