کسی بھی کام میں تُجھ بِن مزا نہیں ہوتا
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiکسی بھی کام میں تُجھ بِن مزا نہیں ہوتا
میں اب شراب بھی پی لُوں نشہ نہیں ہوتا
تمہارے بعد کوئی چاہتا نہیں مجھ کو
سُنا ہے تم پہ بھی کوئی فدا نہیں ہوتا
سکون یوں مجھے تنہائیوں میں ملتا ہے
ترا خیال جو مُجھ سے جدا نہیں ہوتا
میں اپنی ذات سے بڑھ کر جسے بھی چاہتا ہوں
عجیب راز ہے وہ پھر مِرا نہیں ہوتا
نصیب والے کو ملتا ہے باوفا ساتھی
ہر ایک شخص ہی تو باوفا نہیں ہوتا
وصال جس کا سکوں دل کو بخش دیتا ہے
اُسی کا ہجر بھی لذت سِوا نہیں ہوتا
ہیں بدعائیں مجھے دینے والے لاکھوں پر
کسی کے لب پہ بھی حرفِ دعا نہیں ہوتا
ہر ایک شخص کا باقرؔ مقام اپنا ہے
کبھی کسی کا کوئی ہم پلہ نہیں ہوتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






