کسی جنت سے کم نہ تھے ترے سنگ جو گزارے پل
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL INAYAT GILL, Gujranwalaکسی جنت سے کم نہ تھے ترے سنگ جو گزارے پل
کھویا تھا میں سویا تھا لے کے وفاؤں کا آنچل
تری بانہوں کے ڈائرے میں ، تری زلفوں سے کھیلا میں
لگا مجھ کو اِس دنیا میں ، اکیلی تُو ہوں اکیلا میں
بہاریں تھیں ، نظارے تھے ، تھا برسا پیار کا بادل
کسی جنت سے کم نہ تھے ترے سنگ جو گزارے پل
سارے لمحے جو ترے سنگ ، بیتائے سمیٹ لیے میں نے
تری خوشبوؤں کے دھاگے ، خود ی سے لپیٹ لیے میں نے
میں نے دل کی تجوڑی میں ، سنبھالا ہے وہ وقتِ وصل
کسی جنت سے کم نہ تھے ترے سنگ جو گزارے پل
وہ لمحہ یاد ہے مجھ کو ، میرا سر ترے سینے پہ
مزہ کیا خوب آیا تھا ، اُسی اِک پل میں جینے میں
میرا وجود فناہ ہوا ، میں تجھ میں ہو گیا شامل
کسی جنت سے کم نہ تھے ترے سنگ جو گزارے پل
میں یادوں کے صندوق سے ، نکال کر تصویریں دیکھتا ہوں
میں چوم کر پھر تری تصویر ، ہاتھوں کی لکیریں دیکھتا ہوں
بہت روئے جدا ہو کے ، ہائے ! دو نام نہالؔ کوملؔ
کسی جنت سے کم نہ تھے ترے سنگ جو گزارے پل
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






