کسی خوش نگاہ سی آنکھ نے
Poet: Amjad Islam Amjad By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIکمال مجھ پہ کرم کيا
مری روح جاں پہ رقم کيا
وہ جو ايک چاند سا حرف تھا وہ
جو ايک شام سا نام تھا
وہ جو ايک پھول سی بات پھرتی تھی در بدر
اسے گلستان کا پتا ديا
مرا دل کہ شہر ملال تھا اسے روشنی ميں بسا ديا
مری آنکھ اور مرے خواب کو کسی ايک پل میں بہم کيا
مرے آئنوں پہ جو گرد تھی مہ و سال کی
وہ اتر گئی
وہ جو دُھند تھی مرے چار سو
وہ بکھر گئی
ابھی روپ عکس جمال کے
سبھی خواب شام و صال کے
جو غبار وقت ميں سر بسر تھے آئے ہوئے
وہ چمک اٹھے
وہ جو پھول راہ کی دھول تھے، وہ مہک اٹھے
لے ساتھ رنگ بہار کے
چلا ميں جو سنگ بہار کے
تو سجا ديئے سبھی راستے
کسی دشتِ شعبدہ سازنے
مرے نام پر مرے واسطے
مری بے گھری کو پناہ دی مری جستجو کو نشان ديا
جو يقين سے بھی حسين ہے مجھے ايک ايسا گماں ديا
وہ جو ريزہ ريزہ وجود تھا
اسے ايک نظر ميں بہم کيا
کس خوش نگاہ سی آنکھ نے
يہ کمال مجھ پہ کرم کيا۔۔۔۔
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






