کسی سے پیار کر لے یا کسی سے پیار ہو جائے
Poet: صہیب فاروقی By: Umair Khan, Karachiکسی سے پیار کر لے یا کسی سے پیار ہو جائے
یہی آزار ہے تو پھر مجھے آزار ہو جائے
رسیلے ہونٹ گدرایا بدن اور چشم خوابیدہ
کوئی دیکھے اسے تو بے پیے سرشار ہو جائے
یہی آزادیٔ اظہار کا مطلب ہے کیا لوگو
زباں ترشول ہو جائے قلم تلوار ہو جائے
یہی رسم محبت ہے اسی میں لطف آتا ہے
کبھی انکار ہو جائے کبھی اقرار ہو جائے
منافق کا یہی طرز عمل پہچان ہے اس کی
کبھی اس پار ہو جائے کبھی اس پار ہو جائے
تبسم اس کے ہونٹوں کا بہاروں کی امانت ہے
وہ ہنس دے تو بیاباں بھی گل و گلزار ہو جائے
میں اپنا استغاثہ لے کے جاؤں کس عدالت میں
اگر دل ہی اسیر گیسوئے خم دار ہو جائے
متاع دل کے لٹنے کا گلہ کس سے کریں جا کر
کوئی قزاق ہی جب قافلہ سالار ہو جائے
صہیبؔ اپنی دعاؤں میں یہی اک ورد کرتا ہے
جو انساں ہیں انہیں انسانیت سے پیار ہو جائے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






