کسی فقیر کا اپنا ستاں نہیں ہوتا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیاجہان غیر کا اپنا جہاں نہیں ہوتا
کسی فقیر کا اپنا ستاں نہیں ہوتا
پہنچ میں جو نہ ہو وہ یہاں نہیں ہوتا
جو اپنے حال پہ روئے جہاں نہیں ہوتا
کسی کی یاد کے جلتے ہیں شب کے سینے میں
"کسی چراغ کا اپنا مکاں نہیں ہوتا"
تمام لوگ اپنی ذات کے سخن ور ہیں
کوئی کسی کا بھی تو ہم زباں نہیں ہوتا
غبار یار کی اب میں کیا گواہی دوں
خیال یار مرا ترجماں نہیں ہوتا
جہاں رہوں گی وہاں روشنی سجاؤں گی
یہ اور بات انہیں تو گماں نہیں ہوتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






