کسی کو تو دینا پڑے گا ، مجھے ہی دے دو دل اپنا
Poet: Humera Sajid By: Humera Sajid, Lahoreکسی کو تو دینا پڑے گا ، مجھے ہی دے دو دل اپنا
بڑا سنبھال کے رکھوں گا ، پھر تمھیں بھی دے دوں گا دل اپنا
یہ دل ہے دولت تو نہی اور محبت کاروبار تو نہیں ہے
ایسے کہ رہے ہو تم کہ کاروبار تو کرنا ہے ، میرے ساتھ ہی شروع کر لو کام اپنا
یہ دلوں کے معاملے بھی عجیب ہوتے ہیں، کبھی راہ چلتے ہی دل مل جاتے ہیں
اور کبھی ساری عمر کسی کے ساتھ رہتے ہوئے بھی ، مانتا نہیں اسے دل اپنا
یوں راہ میں کھڑے ہو کر اور سر راہ چلتے چلتے نہ مانگا کرو دل اے لڑکو
اگر دینا ہو گا کسی کو دل ، تو وہ خود ہی دے دے گی تمھیں دل اپنا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






