کسی کو پیار کرنے کی اذیت جانتے ہو تم
Poet: Abdul Wadood panchi By: Abdul Wadood, Chenab nagarکسی کو پیار کرنے کی ۔۔ اذیت جانتے ہو تم؟
کہ دل تار تار کرنے کی اذیت جانتے ہو تم؟
میری الفت کی یہ حد ہے کہ بے حد ہے
مگر حد پار کرنے کی ۔۔ اذیت جانتے ہو تم؟
تجھے خود میں سمانے کی یہ خواہش جان لیوا ہے
کہ روح مسمار کرنے کی اذیت جانتے ہو تم؟
چلو سوچو اگر چاہت میں اپنی مار بھی لوں تو
اٌسے انکار کرنے کی ۔۔۔ اذیت جانتے ہو تم؟
کسی جلتے پتنگے کی ۔۔۔ سسکتی سی دہائیاں تھیں
کہ آنکھیں چار کرنے کی اذیت جانتے ہو تم؟
کوئی محسن کوئی ہمدم جو تجھ پر جان دیتا ہو
اسے غم خوار کرنے کی اذیت جانتے ہو تم؟
کسی سنگدل سے کیا شکوہ کروں میں سنگدلی کا
کہ دل سنگسار کرنے کی اذیت جانتے ہو تم؟
چلو مانا کہ جذبوں کو چھپانا بھی اذیت ہے
مگر اظہار کرنے کی ۔۔۔ اذیت جانتے ہو تم؟
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






