نم ذیادہ

Poet: رشید حسرت By: Rasheed Hasrat, Quetta

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ
دکھی رکھے گئے ہیں ہم ذیادہ

سبھی کا قد برابر عشق میں ہے
کوئی اس میں نہیں ہے کم، ذیادہ

مری تقدیر میں بھی کم نہیں ہیں
مگر زلفوں میں تیری خم ذیادہ

مرا میں موت جن لوگوں کے ہاتھوں
منائیں گے وہی ماتم ذیادہ

رکھیں اس کو وفاداروں میں کیا ہم
اٹھائے جس نے ہیں پرچم ذیادہ

عطا خوشیاں ہوئیں گاہے بگاہے
مگر سونپے گئے ہیں غم ذیادہ

ہمارے ساتھ جب تم ہم قدم تھے
مزہ دیتے رہے موسم ذیادہ

فقط اک بار درشن ہوں تمہارے
دیا جیون کا ہے مدھم ذیادہ

رشیدؔ ان کی کرم فرمائیاں تھیں
مگر زلفیں رہِیں برہم ذیادہ

Rate it:
Views: 62
14 Apr, 2026
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL