نم ذیادہ

Poet: رشید حسرت By: Rasheed Hasrat, Quetta

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ
دکھی رکھے گئے ہیں ہم ذیادہ

سبھی کا قد برابر عشق میں ہے
کوئی اس میں نہیں ہے کم، ذیادہ

مری تقدیر میں بھی کم نہیں ہیں
مگر زلفوں میں تیری خم ذیادہ

مرا میں موت جن لوگوں کے ہاتھوں
منائیں گے وہی ماتم ذیادہ

رکھیں اس کو وفاداروں میں کیا ہم
اٹھائے جس نے ہیں پرچم ذیادہ

عطا خوشیاں ہوئیں گاہے بگاہے
مگر سونپے گئے ہیں غم ذیادہ

ہمارے ساتھ جب تم ہم قدم تھے
مزہ دیتے رہے موسم ذیادہ

فقط اک بار درشن ہوں تمہارے
دیا جیون کا ہے مدھم ذیادہ

رشیدؔ ان کی کرم فرمائیاں تھیں
مگر زلفیں رہِیں برہم ذیادہ

Rate it:
Views: 75
14 Apr, 2026
More Sad Poetry