کسی کی آنکھ بھی پُرنم نہیں ہے
Poet: Wasim ahmad Moghal By: Wasim Ahmad Moghal, Lahoreکسی کی آنکھ بھی پر نم نہیں ہے
ہمارا کوئی بھی ہمدم نہیں ہے
کسی کی زلف بھی برہم نہیں ہے
ہمارا کوئی بھی محرم نہیں ہے
بھڑک اُٹھیں گے تیرے دل میں شعلے
یہ آنسو ہیں کوئی شبنم نہیں ہے
اسے تم زندگی کہتے ہو یارو
کہ جس میں کوئی رنج و غم نہیں ہے
وہ قومیں خود ہی مر جاتی ہیں اک دن
کہ جن میں کوئی زیر و بم نہیں ہے
سفر میں کوئی دلچسپی نہ ہو گی
اگر رستوں میں پیچ و خم نہیں ہے
ستم سے یوں توجہ تو ملی ہے
ستم یہ ہے ستم پیہم نہیں ہے
نہ ہو جس کو گناہوں پر ندامت
وہ سب کچھ ہے مگر آدم نہیں ہے
یہ دل کے زخم ہیں اے میرے بھائی
اور ان کا کوئی بھی مرہم نہیں ہے
مجھے بھی سب نظر آتا ہے اِس میں
یہ میرا جام جامِ جم نہیں ہے
یہ میخانہ ہے میخانہ اے یارو
یہاں کوئی کسی سے کم نہیں ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






